Saturday, 22 February 2014

حضرت موسیؑ اور گڈریا


حضرت موسیؑ اور گڈریا
حضرت موسیؑ ایک دن جنگل میں جا رہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک بھیڑ بکریاں چرانے والا (گڈریا) دست بستہ کھڑا ہے اور بڑے شوق سے کہہ رہا ہے کہ اے خدا میرے پاس آ کر بیٹھ تاکہ میں تیری جوتی سیوں، تیرے سر میں کنگھی کروں ، تیری جوئیں ماروں، میں تیرے ہاتھ پاؤ دھوؤں، تجھے نہلاؤں ، صاف ستھرے کپڑے پہناؤں اور تجھ پر قربان ہو جاؤں، اگر تو میرے پاس آئے تو میں اپنا کمبل بچھا کر تجھے اس پر بٹھاؤں اور بکریوں کا تازہ تازہ گرم گرم دودھ تجھے پلاؤں۔ اگر تو بیمار ہو جائے تو میں اپنوں کی طرح تیری خدمت کروں ، تیرے ہاتھ چوموں ، تیرے پاؤں دبا کر تجھے میٹھی نیند سلاؤں ۔ جب صبح خواب استراحت سے بیدار ہو تو تیرا منہ دھلاؤں ۔ تیرے کھانے کیلئے قورمہ ، قلیا، پلاؤ، پنیر کوفتے، مکھن ملائی اور کھیر تیار کراؤں ، تجھے اپنے ہاتھ سے کھلاؤں، اگر تو مجھے اپنا گھر دکھا دے تو میں تازندگی صبح و شام تیرے ہاں دودھ اور مکھن پہنچادیا کروں۔ میری تمام بکریاں اور بھیڑیں تجھ پر قربان ہوں۔ 
حضرت موسیؑ نے اس کی یہ مستانہ باتیں سنیں اور قریب جا کر پوچھا کہ تو کس سے یہ باتیں کر رہا ہے، تو کس کا میزبان بننا چاہتا ہے ، تجھے کس کو اپنے ہاں دعوت پر بلانے کی اس قدر آرزو ہے؟ گڈریا بولا۔ میں اس سے ہمکلام ہو رہاہوں جو میرا پیدا کرنے والا ہے جس نے مجھے بولنے کے لیے زبان دی ہے۔ مجھے یہ بھیڑ بکریاں عطا کیں۔ جن کے دودھ کو میں اپنی غذا اور جن کی پشم سے میں اپنا لباس بناتا ہوں اور جس نے مجھے یہ چیزیں دی ہیں میں اسی کے دیئے ہوئے سے اس کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔ اگر وہ مجھ غریب کے گھر تشریف لے آئے تو میں خوشی سے پھولے نہ سماؤں۔ میری آبرو بڑھ جائے گی اور اس کی شان میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ 
حضرت موسیؑ نے کہا۔ گڈریے! تیرا کلام بڑا گستاخانہ ہے تو خدا سے ایسی باتیں کر رہا ہے۔ وہ تو سب کا رازق ہے اسے کسی کھانے کی محتاجی نہیں ہے۔ نہ وہ تھکتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ تو اس کے پاؤں کیا دبائے گا تو کیا سمجھا کہ اس کا تیرے جیسا جسم ہے؟ جان لے اور یقین کر لے کہ اس کا کوئی جسم نہیں ہے۔ اس کے تیرے جیسے ہاتھ پاؤں نہیں ہیں وہ سب چیزوں سے بے نیاز ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہی سب کا حاجت روا ہے۔ وہ تیرے پاس کمبل پر بیٹھ کر تیری بکریوں کا دودھ نہیں پی سکتا۔ بس ا یسے بے ادبانہ کلام سے توبہ کر ۔ حضرت موسیؑ نے اس غریب گڈریے کو اس قدر دبایا کہ وہ بالکل سہم گیا اور کہنے لگا اے موسیؑ تو نے تو میری زبان بند کر دی ہے ۔ میرا منہ سی دیا ہے اور پشمانی پیدا کر کے میرا دل جلا دیا۔ پس وہ چیخ مار کر اوراپنے کپڑے پھاڑ کر ایک طرف جنگل کو نکل گیا اور نبی وقت کا حکم سن کر اس نے اللہ سے اپنی شوق بھری ہمکلامی چھوڑ دی اور اپنا ارمان دل ہی دل میں دبا کر بیٹھ گیا۔ وہ گڈریا پڑھا لکھا آدمی تو نہ تھا کہ سوچ سمجھ کر شائستہ بات کرتا ہاں اس کے دل میں خدا کی محبت ضرور تھی اور وہ کمال شوق سے اسی کا اظہار کر رہا تھا خدا کو اس کی یہ ذوق و شوق کی باتیں پیاری لگتی تھیں۔ جب وہ ان سے رک گیا تو اللہ تعالی کو ناگوار معلوم ہوا ۔ فوراً اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم (حضرت موسیؑ ) کی طرف وحی بھیجی کہ تو نے میرے ایک محب کو مجھ سے جدا کر دیا ہے۔ اے موسیؑ ہم نے تجھے اس لیے نبی بنایا تھا کہ تو بندوں کو ہم سے ملائے مگر تو نے تو اپنے فرض منصبی کو چھوڑ کر اور راہ اختیار کر لی ۔ اے موسی ؑ ہم نیتوں کو دیکھتے ہیں عملوں کو نہیں دیکھتے۔ ہماری نظر حال پر ہے قال پر نہیں۔ ہمیں دلی سوز کی قدر ہے لفظوں کا خیال نہیں ۔ جا اور ہم سے جدا کردہ بندے کو پھر اپنے شغل میں لگا کہ ہم کو وہی محبوب ہے۔ 
حضرت موسیؑ یہ حکم الہیٰ سن کر فوراً واپس جنگل میں آئے اور بعد از تلاش بسیار کے بعد اس گڈریے کو ڈھونڈ ا اور کہا بھائی اپنی مناجات میں لگے رہو اور جو میں نے تمہیں روکا تھا اس کا کچھ خیال نہ کرو۔ تمہاری محبت اور سوز میں ڈوبی ہوئی باتیں اللہ تعالیٰ پیاری لگتی ہیں۔ اپنے شغل میں مصروف رہو اور مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارے وظیفہ میں خلل انداز ہوا۔ اللہ تعالی نیتوں کو دیکھتا ہے ظاہری اعمال پر اس کی نظر نہیں۔ 

Tuesday, 18 February 2014

Cancer is High in Pakistan


کینسر آج بھی سب سے زیادہ خطر ناک مرض ہے 
سالانہ تقریبا 80لاکھ افراد کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں جلے جاتے ہیں۔ 
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ منٹ میں ایک ، گھنٹے میں بارہ جبکہ چوبیس گھنٹوں میں 288افراد کینسر میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہر سال 85ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جن میں 40ہوار حواتین بریسٹ کینسر اور 8ہزار بچے بھی کینسر کے مرض سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ جبکہ دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ 20لاکھ سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے تقریبا 80لاکھ مریض بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ کینسرکے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں 70% کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ اسی تناسب سے پوری دنیا میں ہونے والی اموات میں کینسر سے ہونے والی اموات23%ہیں۔ 
کینسر کیوں ہوتا ہے؟
کینسر کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا حقیقی جواب تو شاید کسی کے پاس نہیں ہے لیکن ماہرین صحت اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ Genesمیں رونما ہونے والے تغیرات ہیں ۔ غذا میں پائے جانے والے چند عناصر مثلاً ذخیرہ شدہ اجناس میں پائے جانے والے افلاٹوکسن Aflatoxins، تاب کاری اثرات، الیکٹرو میگنیٹک ویوز، وائرل، انفیکشنز ، فضائی و آبی اور غذائی آلودگی ، فوڈ کیمیکلز مثلاً کھانے کے رنگ، جینیاتی طور پر تبدیل کی جانے والی غذائی، سگریٹ نوشی، شیشہ کا نشہ، زہریلا دھواں، اور زرعی ادویات وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ وجوہات ہیں جو کینسر کی وجہ بنتی ہیں۔ مثلاً سیمنٹ انڈسٹری سے متعلق لوگوں کو Asbestosنامی کیمیکل سے کینسر ہو سکتا ہے۔ خواتین میں سن پاس روکنے کے لیے ہارمون تھراپی سے بھی کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سورج کی تاب کار شعاعیں ہیں جن سے وہ لوگ جو دھوپ میں زیادہ بیٹھتے ہوں خصوصا سفید جلد والوں کو جلد کے کینسر کا خدمہ لاحق رہتا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ پائے جانے والے کینسرز
ا۔ چھاتی کا کینسر۔ ۲۔ منہ اور ہونٹ کے کینسر۔ ۳۔ جگر اور پتے کی نالیوں کا کینسر۔ ۴۔ بڑی آنت کا کینسر۔ ۵۔ پروسٹیٹ کینسر۔ ۶۔ برین کینسر۔ ۷۔ مثانہ ۔۸۔ ہوچکنزکینسر۔۹۔ نان ہوچکنز کینسر۔ ۰ا۔ جلد کا کینسر۔ اا۔ اووری کا کینسر۔ ۲ا۔ پھیپھڑوں کا کینسر ۔ ۳ا۔ کولون کینسر ۔ وغیرہ 
بریسٹ کینسر
کینسر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ دوسری بیماریوں کی نسبت اس میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں نہ صرف زیادہ مبتلا ہوتی ہیں بلکہ مردوں کی بانسبت کم عمری میں ہی اس کا شکار بھی ہو جاتی ہیں۔ اس کا اندازہ پاکستان میں سب سے زیادہ پائے جانے والے کینسرز میں پہلے نمبر پر چھاتی کینسر ہے اور خاص ہمارے ملک میں تو یہ کینسر اور بھی زیادہ ہلاکت خیزی کا موجب ہے کہ یہاں دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت خواتین بریسٹ اور اووری کینسر ز مین نسبتاً زدس سال پہلے ہی مبتلا ہو جاتی ہیں۔ یعنی عام طور پر حواتین اس مرض میں پچپن سال کی عمر میں مبتلا ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں عام طور پر خواتین دس سال پہلے یعنی پنتالیس سال کی عمر میں ہی بریسٹ کینسر اور اوری کینسر کا شکار ہو جاتی ہیں۔ 
بریسٹ کینسر کے پاکستان میں آبادی کے تناسب سے دنیا میں سب سے زیادہ کیسز پائے جاتے ہیں۔ ایک تخمینہ کے مطابق تقریبا 50ہزار سالانہ اموات اس کی وجہ سے ہوتی ہین۔ ان خواتین میں نسبتاً اس کا تناسب کم پایا جاتا ہے جو بچوں کو دو سال کی عمر ت ک اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ چھاتی کے کینسر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ جس خاندان میں اس کے دو تین کیسز ہوں اس خاندان کی دوسری خواتین میں اس کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بہر حال اگر اس کی تشخیص ابتداء میں ہی ہو جائے تو یہ مکمل طور پر قابل علاج ہوتا ہے اس کے لیے خواتین کا خود تشخیصی عمل بہت ضروری ہے۔ یعنی خواتین ہر ماہ خود اپنی چھاتیوں کا ہاتھوں سے ٹٹول کر معائنہ کریں کہ کوئی گلٹی تو نمودار نہیں ہو رہی ۔ اگر کوئی گلٹی محسوس ہو تو فوراً اپنی لیڈی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے ضروری نہیں کہ ہر گلٹی سرطان کا پیش خیمہ ہو بعض اوقات بے ضرر گلٹیاں اور غدود بھی ہو جاتے ہیں لیکن اس کی تشخیص ماہر ڈاکٹر سے کروانا بہت ضروری ہے۔ 
پھیپھڑوں کا کینسر
سگریٹ نوشی کرنے والوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے نہ صرف سگرٹ نوش کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ اس کے آس پاس کے لوگ بھی بالواسطہ طور پر اس سے متاثرہ ہوتے ہیں۔ اسموکنگ کے علاوہ سیمنٹ کے ذرات سے اور کان کنی کے کام سے متعلق افراد کو بھی کئی سالوں کے بعد پھیپھڑون کے کینسر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ 
جگر کا کینسر
ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثرہ لوگوں میں یہ کینسرزیادہ پایا جاتا ہے چوں کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگ ہیپاٹائٹس بی یا سی کا شکار ہیں اس لیے یہ کیسز بھی ہمارے ملک میں بہت عام ہیں اس سے بچاؤ کے لیے ہیپاٹائٹس بی کے حفاظتی ٹیکے نہایت موثر ہیں ۔ ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثرہ لوگ اگر ابتداء میں ہی اپنا علاج کروا لیں تو اس کینسر سے بچاؤ ممکن ہے۔ 
کولون کینسر
اس کا تناسب بھی ہمارے ملک میں بڑھتا جا رہا ہے اس کی علامت کے طور پر مقعد خون آنا، وزن میں کمی، تھکان وغیرہ ہیں۔ متناسب غذا جس میں خوب ریشہ ہواور قبض س بچنا جیسی عادات اس کینسر سے بچنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ 
کینسر سے بچاؤ
کینسر سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم اصول فطری ، متوازن اور سادہ زندگی گزارنا ہے۔ اور غیر فطری طرز زندگی سے بچنا ہے۔ طرز زندگی میں سادگی،مرغن غذاؤں کے زیادہ استعمال سے بچنا، ورزش ، ہر طرح کا نشہ خصوصاً پان ، چھالیہ ، تمباکو اور گٹکے وغیرہ سے بچنا اور خصوصاً جگر کے کینسر سے بچاؤ کے لیے ہیپاٹائٹس بی کے حفاظتی ٹیکے وغیرہ ہین۔ خواتین کا خود تشخیصی عمل بھی بریسٹ کینسر کے مکمل علاج میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 

Why Depression?


ڈیپریشن کے خاتمے کے لیے چند تجاویز
ڈپریشن ایک ایسا دماغی مرض ہے جو دماغ میں کئی طرح کے کیمیکل مادوں کی مقدارمیں تبدیلی آنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ڈپریشن نرم، درمیانہ اور شدید ہو سکتا ہے۔ یہ ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے ہوتا ہے۔ڈیپریشن کا مریض ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے اور اس سے کئی طرح کی جسمانی علامات بھی پیدا ہوتی ہیں ، جیسا کہ سر میں درد ، تھکاوٹ ، بھوک ختم ہو جانا اور جسم کے اعضاء میں درد ہونا وغیرہ۔ 
ڈیپریشن کے مریض کے خیالات بدل جاتے ہیں جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ رہتی ہے اور سر میں شدید قسم کا درد اٹھتا ہے ۔ مریض کو شروع شروع میں یہی تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ڈیپریشن کے مریض اپنی زندگی کو جہنم سمجھنے لگتے ہیں ان کو زندگی سے پیار نہیں رہتا۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی کچھ نہیں سمجھتے۔ کچھ لوگ تو حود کشی کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
ڈیپریشن کی وجوہات
ایسے لوگ ہر وقت خوف اور فکر کے شکار رہتے ہیں۔ ڈیپریشن خاندانی طور بھی ہوتا ہے اور پیدائش کے بعد اچھی پرورش نہ ہونے پر بھی یہ مرض ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو بچپن میں پیار نہ ملنے پر غربت کی وجہ سے کوئی ایسی لڑائی یا واقعہ، جس کو وہ برداشت نہ کر سکتا ہو، اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کے مرنے پر، امتحان میں ناکامی یانوکری نہ ملنے پر اور آج کل تو بریک اپ پر بھی لڑکے لڑکیان ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔پسند کے رشتہ نہ ہونے پر بھی یہ بیماری پروان چڑھتی ہے ۔ اس کے علاوہ موبائل فون بھی ڈیپریشن کی بڑی وجہ ہے ۔ موبائل کا بے جا استعمال انسان کو ڈیپریشن کا شکار کر دیتا ہے نوجوان نسل کی لڑائیاں ڈیپریشن کا مریض ہر وقت اپنی غلطیاں اور گناہوں کو یاد کر کے پچھتاتا ہے ۔ اس کو عجیب و غریب قسم کے خیالات آنے لگتے ہیں۔ ایسے انسان کو اپنے مستقبل کی بھی کوئی پرواہ نہیں رہتی۔ آہستہ آہستہ اس کی صحت گرنے لگتی ہے مریض کو بھوک نہیں لگتی۔وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ رات کو نیند نہیں آتی، پیٹ خراب ہو جاتا ہے ، بلڈ پریشر گرنے لگتا ہے مریض پوری طرح سے اپنے آپ کو خراب کر لیتا ہے اس کی صحت بری طرح سے خراب ہو جاتی ہے۔ لیکن کچھ ہفتوں کے بعد ہی مریض کی حالت ٹھیک ہونا شروع ہو جاتی ہے۔وہ نارمل انسانوں کی طرح زندگی گزارنے لگتا ہے ۔ کچھ لوگ تو دواؤں کے ذریعے خود کو متحر ک کرتے ہیں۔ 
ڈیپریشن میں کچھ لوگ الٹا الٹا بھی سوچنے لگتے ہیں، جیسا کہ وہ خود کو بہت امیر شخصیت ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ مریض ایک دم سے زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے وہ خود کو سب سے بہتر شخصیت محسوس کرتا ہے۔ وہ بہت زیادہ خرید و فروخت شروع کر دیتا ہے۔ اس کو خود بھی سمجھ نہیں آتی کہ وہ کب کیا کر رہا ہے ۔ مریض بہت زیادہ بولتا ہے اس کے بولنے سے زیادہ لوگ بھی تنگ آ جاتا ہے۔ وہ لوگوں سے ناشائستہ باتیں کرتا ہے۔ اس کو ڈیپریشن کا اٹیک کچھ ہفتے رہتا ہے اور بعد میں نارمل ہو جاتا ہے۔ 
ڈیپریشن کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
ڈیپریشن کا علاج اینٹی ڈیپریسنٹ ادویہ کے ذریعہ بھی کیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ سائیکو تھراپی کے ذریعہ بھی۔ سائیکو تھراپی اور ادویہ کا مشورہ ڈاکٹر آپ کے ڈیپریشن کی علامات کو دیکھتے ہوئے دیتا ہے کہ آپ کو کیا چیز بہتر طور پر استعمال کرنی چاہیے۔ اگر ڈیپریشن شدید قسم کا ہو اور ڈاکٹر مریض کو دوا کے ذریعے ٹھیک کرنا بہتر سمجھتے ہیں اور اگر درمیانی درجے کاڈیپریشن ہے تو ڈاکٹر مریض کا سائیکو تھراپی کے ذریعے علاج کرتا ہے۔ 
سائیکو تھراپی کے ذریعے علاج کیسے کیا جاتا ہے۔ 
سائیکو تھراپی کا مطلب ہے کہ باتوں کے ذریعے مریض کا علاج کرنا۔ اس میں ماہر نفسیات سائیکو لوجسٹ مریض سے باتیں کرتا ہے اس سے ڈیپریشن کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مریض کے ساتھ ہونے والے ناگوار اور خوشگوار واقعات کا پوچھتا ہے اور ان واقعات سے اندازہ لگاتا ہے کہ مریض کے ساتھ کیا کیا مسائل درپیش ہیں۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی کو بھی اپنا دکھ درد شیئر نہیں کر سکتے۔ تو ماہر نفسیات کو سب بتا دیتے ہیں۔ کیونکہ ان سے بات کرنا کافی آسان ہوتا ہے تو اس طرح سے مریض کا علاج آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس علاج کے لیے مریض کو روزانہ کچھ گھنٹے کے لیے ڈاکٹر سے ملنا پڑتا ہے اور اس کا دورانیہ 5ہفتے سے 40ہفتے تک ہو سکتا ہے اور مریض آہستہ آہستہ خود پرسکون اور پریشانیوں سے دور محسوس کرتا ہے اور پہلے جیسے زندگی گزارتا ہے۔ 
ڈیپریشن ختم کرنے کے لیے کیا ، کیا جا سکتا ہے؟ 
ان لوگوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں جو آپ کو ہنسائیں اور آپ کو خوش رکھیں۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ دوستانہ ماحول بنائیں کیونکہ اگر آپ ان سے تلخ رویہ رکھیں گے تو وہ آپ کے ساتھ نفرت کرنے لگ جائیں گے۔خوفناک قسم کی فلموں کو دیکھنا اور اس قسم کی کہانیاں پڑھنے سے گریز کریں کیونکہ یہ دماغ پر بہت برا اثر چھوڑتی ہیں۔ دوسروں کے بارے میں ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں کیونکہ جب آپ دوسروں کے لیے منفی سوچ رکھیں گے تو اس سے صرف اور صرف آپ کا اپنا نقصان ہو گا۔ خود کو ہمیشہ مصروف رکھیں۔ ڈیپریشن ختم کرنے کا سب سے اچھا اور آسان حل یہ کہ خود کو اللہ تعالی کے ساتھ جوڑ لیں ۔ اپنی ہر خوشی اور غمی کو صرف اور صرف اللہ تعالی کے ساتھ شیئر کریں ۔ پھر دیکھیں کیسے آپ کی زندگی ایک نیا رخ بدلتی ہے۔ اپنے روز مرہ کے کام کو خود سرانجام دیں تاکہ ذہنی سکون ملے۔ روزمرہ کے معمول کو باقاعدہ طور پر ترتیب دیں اور اس معمول کے مطابق اپنا دن گزاریں۔ ان سے آپ کو مسائل حل کرنے میں دشواری نہ ہو گی اور جب دشواری نہ ہو گی تو ڈیپریشن خود بخود خاتمہ ہو جائے گا۔ ڈیپریشن کے خاتمے کے لیے خود کو تخلیقی صلاحیتوں سے اجاگر کریں ، جیسا کہ ڈرائنگ ، پینٹنگ اور تحریری سرگرمیاں شامل ہیں۔ کتابیں پڑھیں۔ دوسروں کی مدد کریں دوسروں کے کام آنے سے انسان کو دلی خوشی ملتی ہے۔ خود کو قدرتی مناظر اور فطرت سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کریں۔ جس سے انسان کو مسرت حاصل ہوتی ہے۔ اچھے اور ہمدرد دوستوں کی محفل میں وقت گزاریں ۔ بزرگوں کی زندگی کے تجربات کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی ایسی بات جو آپ کو ڈیپریشن کا شکار کر رہی ہے تو آپ کسی بااعتماد شخص کو وہ بات بتائیں اور اس کو یہ بھی بتائیں کہ آپ کیا محسوس کر رہے ہیں۔ اس طرح سے آپ کی ٹینشن نہ صرف کم ہو گی بلکہ آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ رونے سے بھی دل کا بوجھ ہلکا ہو جا تا ہے۔ روزانہ صبح کی سیر کو معمول بنا لیں اور اس کے ساتھ ساتھ ورزش بھی کریں۔ اس کو کرنے سے انسان حود کو تازہ دم محسوس کرتا ہے۔ خود کو ایسے کاموں میں مشغول رکھیں جس سے آپ کا دھیان ادھر ادھر کی باتوں سے نکل جائے جیسا کہ ٹی وی پروگرامز کو دیکھیں ، ریڈیوں سنیں، موسیقی کو سنیں وغیرہ۔ 

Monday, 17 February 2014

سب سچ


سوانح حیات۔ سید معراج علی 
سب سچ
یہ کہانی سید معراج علی 75سے یا اس سے زائد سالہ زندگی اور چند سچے واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ 
فراغت کی موجودہ زندگی میں چند دوستوں نے مجبور کر دیا کہ میں ان75سالوں کے تجربات قلمبند کر دوں۔ 
میرے آباؤ اجداد:۔ 
سید فدا علی اپنے تینوں شادی شدہ بیٹوں سید شوکت علی، سید شرافت علی اور سید محمد علی کو کاروبار کی غرض سے رجب پور سے لے کر مراد آباد آ گئے۔یہ وہی شہر ہے جس کی شہرت جگرمراد آبادی، سجاد حیدر یلدرم اور قرۃ العین وغیرہ کے دم سے ہے۔اگر عبیداللہ بیگ (کسوٹی فیم) کا نام بھی شامل کر لیں تو بے جا نہ ہو گا۔ مراد آبادکے نقش و نگار والے تانبے اور پیتل کے برتن بھی مشہور ہیں۔ اس کاروبار پر مسلمانوں کی اجارہ داری عرصہ دراز سے چلی آ رہی ہے۔ یہ کوئی 1925کے قریب کی بات ہے کہ یہاں آ کرفدا علی نے ریلوے روڈ پر ایک قطعہ اراضی خریدا جو 5کنال تھا اس کے آدھے حصے میں تین مکان آگے پیچھے تھے۔ شوکت علی کو کاروباری لحاظ سے سوجھ بوجھ اور عمر میں سب سے بڑا ہونے کی وجہ سے لب سڑک والا مکان دے دیاگیا، اس کی نچلی منزل پر تین دکانیں تھیں اور اوپر کی منزل میں رہائش۔ مکان کے پچھلی طرف کے دو مکانوں میں محمد علی اور شرافت علی مع اہل و عیال رہنے لگے، دکانوں میں سے ایک میں ہندو قصائی کی دکان تھی جو بکرے کا گوشت کھلے عام اور کبھی کبھار مسلمانوں کے لیے چوری چھپے گائے بھی ذبح کر لیتا تھا۔ کیونکہ ہندوؤں کے لیے یہ ایک مقدس جانور تھااور ہے اس لیے اس کے ذبح کرنے پرہندو بہت ناراض ہوتے تھے اور کبھی کبھار ایسے قصائی کے چھرا بھی گھونپ دیتے تھے۔ ایک دکان میں دو تین چمار جوتوں کی مرمت کرتے تھے ۔ تیسری دکان میں ایک برہمن بکری کے گردے کلیجی بھونتا تھا جس کی فروخت مغرب کے بعد شروع ہوتی تھی ہر شرابی یہاں سے خریداری کر کے شراب کی ہٹی پر پہنچتا تھا۔ 
سید فدا علی نے قطعہ اراضی کے نصف حصہ میں لکڑی کا کاروبار کر لیا جسے عرف عام میں ٹال کہتے ہیں۔ چار ملازموں میں سے کلو پدھان اور گچھن تھے جو انتہائی محنت سے لکڑیاں پھاڑ پھاڑ کر ڈھیر لگاتے، ایک مزدور آنے والے گاہکوں کی لکڑیاں تول کر اسے پیسے بتاتا جو رام لال کے حوالے کرتا اور وہ فدا علی کو دے دیتا۔ رام لال کی ایمانداری کی وجہ سے اسے رقم وصولی کا کام سونپا گیا تھا۔ خود فدا علی کی نظر کمزور تھی لہذا نوٹ شناخت کرنے میں انہیں مشکل پیش آتی تھی۔ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے محمد علی کا کام رات کے اندھیرے میں ٹال کی نگرانی کرنا تھا جو کبھی کبھار آنکھ بچا کر چار پائی پر آرام بھی کرلیتے تھے۔ بھاگ دوڑ کے بعد ریلوے اسٹیشن پر شرافت علی کو تانگہ اسٹینڈ کا ٹھیکہ مل گیا ۔ ٹال چونکہ گنجان آباد علاقے میں تھی اس لیے لکڑی کا کاروبار تیز ی سے چمک اٹھا ۔ اس ٹال کے برابر میں ایک اور ٹال تھی۔ اس کے بعد سڑک کے دونوں طرف کمہار، کنجڑے روئی دھننے والے اور مزدوروں کے چھوٹے چھوٹے لاتعداد گھر تھے۔ اس کے بعد ایک دو سینما اور اس کے بعد مراد آباد کا ریلوے اسٹیشن تھا جس پر پلیٹ فارم کے علاوہ کم و بیش دس بارہ اور ریلوے لائنیں تھیں۔ ریلوے اسٹیشن سے کچھ پہلے سڑک کے دونوں طرف آموں کے درخت تھے۔ ٹال کے عقب میں مراد آباد کی جیل تھی جس کی چار دیواری کے ساتھ ساتھ دس بارہ فٹ چوڑا اور انتہائی گہرا نالہ گزر رہا تھا جس کے پانی کی رفتا ردیکھ کر خوف آتا تھا مگر جب بھی اس طرف قیدیوں کی گھاس کاٹنے کی ڈیوٹی لگتی تھی تو اکا دکا نامی گرامی بدمعاش ، لٹیرے، نڈر اچکے آٹھ فٹ اونچی دیوار پھاند کر نالے میں غوطہ لگا کر بھاگ جاتے تھے۔ ڈیوٹی کے بعد نگران کو معلوم ہوتا کہ چند ایک قیدی بھاگ گئے ہیں لہذا ساری فضا سائرن اور سیٹیوں کی آواز سے گونج اٹھتی ۔ جیل میں کبھی کبھارکسی لاش کا پوسٹ مارٹم کیاجاتا تو ہوا کے ساتھ ساتھ ٹال میں ایک ناگوار بو پھیل جاتی اور فدا علی چائے بنوا کر اپنے مگ میں دیسی گھی کے دو چمچ ڈال کر اس چکنے ،دائروں والی چائے سے لطف اندوز ہوتے اور اپنی آرام دہ کرسی پر لیٹ جاتے تھے۔ ٹال کے ایک طرف شراب کی ہٹی تھی ۔ رات ہوتے ہی یہاں شرابی جمع ہو جاتے ۔ برہمن کی دکان سے خریدی ہوئی چٹ پٹی روکھی کلیجی اور گردے کھاتے اور ہٹی سے ٹھرا خرید کر ایک دو گھونٹ بھرتے اور گالیاں بکتے ہوئے کنجری سرائے میں کسی کوٹھڑی کا رخ کرتے جہاں ایک سے ایک بڑھ کر کنجری کچے گھروں کے درمیان رات کے وقت بناؤ سنگھار کر کے کھڑی ہو جاتی ۔جن میں بمبئی سے بھاگ کر آنے والی چھمیابھی تھی جوسب کے مقابلے میں زیادہ جوان، زیادہ پرکشش اور گوری بھی تھی۔ ان سب کا کاروبار خوب چمک رہا تھا۔ گاہکوں میں زیادہ تر شرابی ہوتے۔ ٹال کے سامنے پیارے لال کی پنساری کی دکان تھی جس پر روزمرہ کی چیزیں مثلاً چاول، دال، آٹا، گڑ اور مصالحہ جات وغیرہ جیسی بہت سی چیزیں ملتی تھیں۔ اس دکان کے برابر سڑک کا ڈھال کچھ فاصلے پر ایک مسجد کے پاس سے گزر کر کہیں شہر کے بازاروں میں جا ملتا تھا۔ اس مسجد میں زیادہ رونق رمضان میں ہوتی جب مسلمانوں کے بچے خوانچے والوں سے دال ئسیو خرید کر اذان کے انتظار میں رہتے جس کی آواز کے ساتھ ہی ان میں دوڑ لگ جاتی کہ کون اپنے گھر پہلے پہنچ کر روزہ کھلنے کی خوشخبری سنائے گا۔ غلامی کے اس دور میں کچھ نڈر مسلمان مسجدوں کو آباد کئے ہوئے تھے تاہم قرآن کی تلاوت گھروں میں کرتے۔ مسلمانوں کے ہر گھر میں قرآن موجود تھا جن کا یہ ایمان تھا کہ وہ انہیں ہندو اور انگریز دونوں کے ظلم سے بچائے گا۔ وقت تیزی سے گزرتا رہا اور 1940ء جب آیا تو سڑکوں پرمسلمانوں کے یہ نعرے بھی سننے میں آنے لگے ۔
سینے پہ گولی کھائیں گے پاکستان بنائیں گے 
مسلمانوں کے جلوس ہندوؤں کو ایک آنکھ نہ بھاتے تھے لہذا وہ چوری چھپے رات کے اندھیرے میں مسلمانوں کو قتل کرنے لگے۔ 1936میں فدا علی نے کاروباری منافع سے شوکت علی کی دوسری شادی جمیلہ نامی خاتون سے کر دی۔ جس کے لیے انہوں نے گاؤں کی بیوی سے اجازت بھی لی جو غالباً بانجھ تھیں اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ یوں جمیلہ خاتون نے تین دکانوں کے اوپر کی منزل کو آباد کر دیا جو برسوں سے عورت کے بغیر کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی۔ شادی کے اگلے دن دھوم دھام سے ولیمہ ہوا جس میں شوکت علی کے چند ہندو دوستوں نے بھی شرکت کی۔ ارد گرد کمیونٹی میں فدا علی بڑے میر صاحب اور شوکت علی چھوٹے میر صاحب کہلانے لگے۔ شام کو بڑے میر صاحب اپنی بہو جمیلہ خاتون کو نیچے کے دو مکانوں میں لائے اور سب کا تعارف کروایا۔ جن میں ان کی ساس بھی شامل تھیں جو قد آور، طاقت ور اور گوری چٹی خاتون تھیں۔ ان کے سرخ سپید رخساروں پر ایک مسا بھی تھا۔
یہ1938تھا جب شوکت علی کے ہاں ایک سانوالہ سا بیٹا پیدا ہوا۔(یعنی میں) وارث کے پیدا ہونے کی وجہ سے جمیلہ خاتون کی مناسب دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ غذا اور دواؤں کا بھی خیال رکھا گیا ۔ محمد علی اور شرافت علی کی پہلے ہی دو دو تین تین اولادیں تھیں مگر اس خوشی میں سب برابر کے شریک تھے اور باری باری سب نئی نویلی سانولی دلہن کی خدمت کرتے رہے۔ 
دو سال بعد اس سانولے بچے کی ختنہ( سنتیں )کرا دی گئیں ۔ اس بچے کے گاؤں والے ماموں سید اشتیاق علی آفریدی جو مراد آباد میں ایک راشن ڈپو کے انچارج تھے اور بیکری والوں کو چینی کبھی کبھار کوٹے سے زیادہ بھی دے دیتے تھے ان میں سے ایک بیکری کے مالک نے پانچ پونڈ کا انتہائی لذیذ کیک آفریدی صاحب کو بنا کردے دیا جووہ میرے لیے لے کر آئے تو میں نے کئی دن تک مزے لے لے کر کھایا کیونکہ نمک مرچ کے کھانے پر پابندی تھی۔ شوکت علی نے اپنے بیٹے کا نام معراج علی رکھا مگر گاؤں والی سوتیلی ماں اسے پیار سے ابن کہنے لگیں اس زمانے میں مسلمان بچوں کے نام اس وزن پر رکھنے کا عام رواج تھا مثلاً جمن ، کلن، چھکن ، امن ، نبن ، چھدن اور ببن وغیرہ۔فدا علی جب اس فرض سے فارغ ہوئے تو شوکت علی عمارتی لکڑی کے کاروبار میں کثیر منافع کما چکے تھے چنانچے باپ کے مشورے سے انہوں نے ایک نیا ٹرک خرید لیا۔جسے شہر کے ہندو بھی یک نظر ضرور دیکھتے تھے۔ یہ شیور لیٹ یا بیڈ فورڈ تھا۔ آہستہ آہستہ اس ٹرک کی باڈی انتہائی قیمتی لکڑی سے تیار ہوتی رہی ۔ جب یہ کام مکمل ہوا تو معرا ج علی بھی اپنی ماں کے ساتھ ٹال میں اس پر سلیٹی رنگ ہوتا ہوا دیکھنے زینے سے ٹال میں آگیا ۔اس دوران ایک بڑی سی کالے اور سفید رنگ کی پتنگ جسے چپَ کہتے تھے کہیں سے کٹی ہوئی آئی تو ٹال کے مزدور کام چھوڑ کر اس کی طرف لپکے ۔ ایک دو مزدور وں نے سڑک کی طرف سے آنے والے لونڈوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر بھگا دیا۔ لوٹی ہوئی یہ پتنگ جب میرے حوالے کی گئی تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ میں اسے حفاظت سے لے کر کوٹھے پر آ گیا اور پلنگ کے سرہانے کھڑا کر دیا۔ اس کے ساتھ جو چند گز ڈور تھی اس کی ایک مزدور نے اٹیا بنا دی جو شاید بچپن میں پتنگ بازی کرتا رہاتھااور پتنگوں کے کئی نام اسے زبانی یاد تھے۔ ان میں سے کچھ مجھے بھی رٹوا دیئے۔ مثلاً چوباق، لنگوٹ، ادھا ،ڈھپال اورکنکوا وغیرہ۔اٹیا دراصل انگریزی کے ہندسے 8کی طرح بنائی جاتی ہے جسے پتنگ لوٹنے والا دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور چنگلیا کی مدد سے ڈور سمیٹنے کیلئے بناتا ہے۔ میرے والد نے جب اکثر مجھے آسمان پر اڑ تی پتنگوں کو تکتے دیکھاتو میرے نیچے اترنے اور پتنگ اڑانے پر پابندی لگا دی اور اپنی بیوی کو بھی سختی سے تاکید کر دی۔ میں سہم کر رہ گیا کیونکہ میرے والد میری کڑی نگرانی کرتے اور ذرا ذرا سی غلطی پر میری پٹائی کرتے۔ یوں مجھے وہ برے لگنے لگے۔ جب وہ گھر پر نہ ہوتے تو میں اکثر شام کو صحن میں کھڑے ہو کر آسمان پر اڑتی ہوئی رنگ برنگی پتنگوں کو حسرت بھری نگاہوں سے گھنٹوں تکتا رہتا۔ ایک دن میرے والد کاروبار کے سلسلے میں عمارتی لکڑی لینے دارجلنگ چلے گئے تو ماں کے لاکھ منع کرنے کے باوجود جب وہ غسل خانے میں گئیں تو میں پتنگ لے کر دبے پاؤں نیچے آیا اور مزدور سے اٹیا کھولنے کے لیے کہا تو میری پتنگ کے ساتھ مجھے دس بارہ گز ڈور مل گئی اور میں اسے اڑانے لگا مگر ابھی سیکھنے کا عمل تھا لہذا میری پتنگ اوپر اٹھتے ہی نیچے آ جاتی۔ کافی دیر کے بعد جب میں کوٹھے پر آیا تو میری خوب درگت بنی ۔ اب مجھے ماں بھی بری لگنے لگی۔وہ سمجھتی تھیں کہ میں جوان ہو کر پتنگ اور ڈور کا کاروبار کروں گا اور ان پڑھ ہی رہوں گا۔ جب میں نے پانچویں برس میں قدم رکھا تو میرے والدین میں میری تعلیم پر طویل بحث ہونے لگی والد کہتے تھے کہ یہ کاروبار سنبھالے گا لہذا سے پڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں جبکہ میری والدہ کی رٹ تھی کہ وہ اسکول میں داخل کروائیں گی۔ اس دوران میری بہن پیدا ہوئی مگر زندگی نے چند ماہ سے زیادہ وفا نہ کی ایک بار پھر سب کی توجہ میری طرف ہو گئی۔ سب سے زیادہ مجھے اپنی پتنگ پیاری لگنے لگی۔ والد کی غیرحاضری میں اسے صحن میں اڑاتا۔ ایک دن ہوا تیز تھی تو میری پتنگ اوپر اٹھی تو مجھے بہت مزہ آیا میں نے اسے ڈھیل دی تو وہ اوراونچی ہونے لگی مگر جب اس نے غوطہ لگایا تو وہ سامنے کے بجلی کے تاروں میں الجھ کر رہ گئی اور کئی بل کھانے کے بعد تاروں میں ہی جھولنے لگی۔ میں نے بہت زور لگایا مگر وہ تاروں کی گرفت سے نہ نکل سکی اسی کوشش میں ڈور ٹوٹ گئی اور صرف دو تین گز کا ٹکڑا میرے ہاتھ میں رہ گیا۔ جسے میں نے صحن میں ہی پھینک دیا۔ والدہ نے جب صحن میں جھاڑو دی تو یہ ڈور کا ٹکڑا ان کی جھاڑو سے بار بار لپٹ کر انہیں تنگ کرنے لگا جب انہوں نے غصے میں جھاڑو میری ٹانگوں پر دو تین بار لگائی تو میں بھاگ کر نیچے آیا اور دادی کے پاس رونے لگا تو انہوں نے مجھے گود میں اٹھا لیا اور میری تسلی کے لیے میری والدہ کو گھور کر دیکھا۔ اسی طرح جب والد مجھے مارنے کو دوڑتے تو میں بھاگ کر دادی کی گود میں آ جاتا جو مجھے اپنے دوپٹے کے نیچے چھپا لیتیں۔ وہ ڈانٹ کر کہتیں شوکت! ۔ خبر دار جوتو نے میرے معصوم بچے کو ہاتھ بھی لگایا۔ میں تیرے ہاتھ توڑ دوں گی۔ میرے والد یہ کہہ کر واپس چلے جاتے کہ اماں آپ اسے بگاڑ دیں گی تو وہ جواب دیتیں ۔ بچہ ہے خود سمجھ جائے گا۔پھر ایک دن میری ماں کو میری پٹائی کا ایک اورموقع ہاتھ آ گیا۔ ہوا یوں کہ مجھے بہت بھوک لگی تو میں نے والدہ سے میٹھا پراٹھا پکانے کی فرمائش کر دی ،نہ جانے کون سی نیک گھڑی تھی کہ انہوں نے بخوشی میٹھا پراٹھا بنا دیا۔ میں گرم گرم پراٹھا پلیٹ میں لے کر کمرے میں آ گیا۔ اس کمرے کا ایک دروازہ پچھلی طرف کھلتا تھا یہاں سے زینہ نیچے اتر کر دونوں مکانوں میں جاتا تھا جن میں میرے چچا رہتے تھے۔ یہ زینہ ہنگامی صورت میں بڑوں کے استعمال کے لیے تھا اورمجھ جیسے بچوں کے لیے انتہائی خطر ناک تھا کیونکہ سیڑھیوں کے دونوں طرف سہارے کے لیے کوئی دیوار یاریلنگ نہ تھی۔ ابھی پراٹھا ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ مجھے سخت پیاس لگی اور میں پانی لینے کے لیے صحن میں آیا۔ واپس جا کر تخت پر دیکھا تو خالی پلیٹ میرا منہ چڑا رہی تھی۔ میں رونہار ہو گیا اور بھوک نے مجھے ڈرتے ڈرتے باورچی خانے میں پھر پہنچا دیا۔ میں نے روتے ہوئے کہا میرا پراٹھا کسی نے کھا لیا ہے تو جواب میں انہوں نے کہا کہ اتنی جلدی تم نے پراٹھا کیسے کھا لیا اس کے علاوہ کہنے لگیں تو پیٹو کب سے ہو گیا میں نے بڑا یقین دلایا مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی اور پھنکنی ہاتھ میں لے کر گھسیٹتی ہوئی مجھے کمرے میں لے آئیں وہ سمجھیں کہ میں بھوک کی شدت سے لاچار ہو کر بڑے بڑے نوالے لے کرٹھونستا آناً فاناً حبشیوں کی طرح پراٹھا کھا گیا ہوں، یا میں نے پراٹھا کہیں چھپا دیا ہے یا زیادہ بھوک نے مجھے دوسرا پراٹھا مانگنے پر مجبور کیا ہے۔ مگر ہر گز ایسا کچھ نہ تھا۔ انہوں نے دروازے سے گردن باہر نکال کر جب اپنے بائیں جانب دیکھا تو ایک بندر چچا کے مکان کی چھت پر بیٹھا گرم گرم پراٹھا بڑے شوق سے کھا رہا تھا۔ چنانچہ بے بس ہو کر انہوں نے میرے لیے دوسرا پراٹھا پکانے کی حامی بھر لی۔ ان کے جاتے ہی میں نے ایک کواڑ کا سہارا لے کر باہر جھانکا تو بندر کو پراٹھا کھاتے پایاتو دل ہی دل میں اسے کوسنے لگا۔ دراصل دونوں مکانوں کے پیچھے جو ایک بڑی ٹال تھی اس میں املی کا درخت تھا جس کی چند شاخیں پھیل کر چھت سے منڈیرکی طرف آ نکلی تھیں۔ جب بندروں کو بھوک لگتی تو وہ اس درخت پر املی کھانے کے لیے آ جاتے۔ بندر میرا پراٹھا ختم کر کے فوراً چھت سے منڈیر کے سہارے دبے قدموں دروازے کی طرف آتا دکھائی دیا تو ڈر کے مارے میں نے دروازہ بند کر دیا۔ 
رات کے وقت جب میں ماں کے پاس لیٹتا تو بہت سے سوال کرنے کو جی چاہتا مگر ماں کا خوف آڑے آ جاتا۔ ایک دن والد گھر پر نہ تھے تو میں نے والدہ سے پوچھا کہ میری بہن کہاں چلی گئی۔تو وہ کہنے لگی کہ اللہ کے پاس چلی گئی۔ جب میں نے یہ کہا کہ وہ آئی کہاں سے تھی تو جواب ملا کہ روشندان میں سے اللہ میاں نے مجھے آواز دے کر تمہاری بہن دے دی۔ میرا حوصلہ بڑھا تو ایک اور سوال کر دیا اور میں کہاں سے آیا ہوں؟ تو ان کا جواب تھا کہ بہت بولنے لگے ہو خاموش ہو کر سوجاؤ رات بہت ہو گئی ہے۔ 
میں اب انگلی پکڑ کر والدہ کے ساتھ ساتھ تیز قدموں سے چلنے لگا تھا۔مگر گھر کے سامنے بڑی سڑک پا ر کر کے پیارے لال کی دکان سے روزمرہ کی چیزیں لانے کی اجازت نہ تھی۔ اتفاق سے انہیں دنوں ایک فوجی سکھ دوست بڑے میر صاحب سے ملنے آیا اسے کتے پالنے کا بہت شوق تھا شاید اس پر انگریزوں کے طرز زندگی کا گہرا اثر تھا ، میر صاحب نے اپنی بہو کا مسئلہ اس کے سامنے رکھ دیا تو اس نے چند دن بعد ایک نسلی کتا مع ٹرینر کے بھیج دیا جس نے میر صاحب کے مشور سے اس کا نام موتی رکھ دیا اور دو تین دن میں اسے سدھا کر تیا رکر دیا جو زینے کے دروازے کے پاس بیٹھا رہتا ۔ اماں جی جب اسے زینے کے قریب سے موتی کہہ کر پکارتیں تو وہ فوراً لپک کر سڑھیاں پھلانگتا ہوا اوپر آجاتا اور سیڑھیوں سے نیچے اترنے اور چڑھنے کے لیے اوپر آنے والے راستہ میں چھوٹے سے دروازے کے کواڑ پر اگلی دونوں ٹانگیں رکھ کر ہلکا سا بھونکتا جس کی آواز پر اماں جی اس کے گلے میں ایک تھیلا اور سودے کا پرچہ باندھ دیتیں ۔ موتی دوڑتا ہوا بڑی ہوشیاری سے سڑک کی ٹریفک سے نکل کر پیارے لال کی دکان کے تھڑے پر ایک بار پھر اپنی اگلی ٹانگوں پر کھڑا ہو جاتا۔ پیارے لال سودا تھیلے میں ڈال کر موتی کی گردن کے ارد گرد لپیٹ دیتا جو سیدھا گھر کا زینہ چڑھ کر بھونک لگاتا۔ اما ں جی اس کی گردن سے تھیلا کھول لیتیں اور موتی نیچے اتر کر پھر اپنی جگہ پر آ بیٹھتا ۔ ابا جی کا آمنا سامنا جب پہلی مرتبہ موتی سے ہوا تو وہ بھونکنے لگا مگر بڑے میر صاحب نے نہ جانے اس پر کیا جادو کیا کہ میرے والد نے جب اسے دودھ پلایا تو وہ دم ہلانے لگا اور جلد ہی گھر والوں اور مہمانوں میں تمیز کرنے لگا۔ میرے والد نے سکھ کا سانس لیا کہ ان کے والد نے نوکر رکھنے کے مسئلہ کو موتی کے ذریعہ حل کر دیا تھا۔ 
کاروباری دوروں کے سلسلے میں والد صاحب اکثر گھر سے باہر رہتے تھے چنانچہ ان کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے والدہ مجھے عزیز واقارب کے ہاں لے جانے لگیں ان کی بڑی بہن صداقت انسا عرف صدو گلاب رائے کے باغ والے محلہ میں ایک منزلہ مکان میں اپنے شوہر اور پانچ بیٹیوں کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان کے شوہر سید مقبول حسین برتنوں پر نقش و نگار بنانے کا کام کرتے تھے جن کا سارا دن محنت اور مشقت میں گزر جاتا شام کو برتن تیار کر کے دکان دار کو دے آتے اپنی مزدوری لیتے اور اگلے دن کے لیے برتن لے آتے۔ ان پڑھ ہونے کی وجہ سے وہ رات دن مشقت کی چکی میں پس رہے تھے مگر بلا کے ذہن عقل مند اور چالاک ہونے کی وجہ سے اپنے کمزوری کو بڑی خوبی سے نبھارہے تھے۔ ان کی بیٹی افسر جہاں نہ صرف اپنے والد کا ہاتھ بٹاتی بلکہ مجھے بھی یہ ہنر سکھانے کی سرتوڑ کوشش کرتی مگر بے سود کیونکہ والدہ کی گھورتی نگاہیں، مجھےکچا چبانے کی فکر میں رہتیں۔ میں ان کے خوف، رعب اور دبدبے کے سامنے دونوں باپ بیٹی کی صحبت میں بت بنا بیٹھا رہتا ۔ اکتاہٹ سے چور ہو کر میں واپس جانے کا تقاضہ کرتا تو خالہ جان میری والدہ کو جمیلہ کہہ کر دو تین دن گزارنے کے لیے روکتیں ۔ اگلے دن خالہ کی پانچ بیٹیاں میری والدہ کو پڑوس میں لے گئیں۔ میں موقع غنیمت جان کر رونی شکل بنا کر خالہ سے کہنے لگا ہمیں جانے دیں تو انہوں نے میرا دھیان پلٹنے کے لیے میری پسندکے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا مجھے پتنگ اڑانا بہت اچھا لگتا ہے۔ آپ کے گھر تو دو دو کو ٹھے ہیں تو وہ کہنے لگیں تو فکر نہ کر اگلی مرتبہ جب آئے گا تو میں تیرے لیے پتنگ اور ڈور منگا کر رکھوں گی ۔ میں تیری ماں کو کمرے میں لے جا کر باتوں میں لگا لوں گی اور تو زینہ سے چڑھ کر کوٹھے پر پتنگ اڑانا۔ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ۔گھر واپس آتے ہی میں بے چین رہنے لگا خدا خدا کر کے تین دن گزرے تو میں نے خالہ کے ہاں جانے کے لیے کہا تو کہنے لگیں پاگل ہو گیا ہے روز روز کسی کے گھر نہیں جاتے۔ کل ہم دونوں سول لائین چلیں گے پرسوں تیرا باپ آ جائے گا۔ وہاں ایک بڑی کوٹھی ہے۔ جس میں ایک بہت قابل عزیز سید ظفر حسین واسطی بار ایٹ لا رہتے ہیں۔ جو سڑک کے پارکچہری میں کام کرتے ہیں۔ خدا خدا کر کے رات گزری تو ناشتہ کے بعد والدہ نے تانگہ منگوایا اور برقع اوڑھ کر میرا ہاتھ پکڑکے نیچے آ گئیں ہم دونوں تانگے میں پچھلی نشست پر آرام سے بیٹھ گئے کوچوان نے تانگے کے پچھلی طرف چھت کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک صاف ستھری چادر تان دی ، ہم دونوں سب کی نگاہوں سے محفوظ ہو گئے۔ پندرہ بیس منٹ بعد تانگہ نے ایک وسیع و عریض کوٹھی کے ارد گرد میدان میں ہمیں اتار دیا۔ تانگہ بان نے کہا کہ وہ کرایہ بڑے میر صاحب سے لے لے گا۔ میری والدہ کے اندر داخل ہوتے ہی ایک شور مچا جمیلہ پھپھو آ گئیں۔ واسطی صاحب اپنی اہلیہ، چار بیٹیوں اور دو بیٹوں کے ہمراہ یہاں مقیم تھے۔ کوٹھی کے کمرے اس قدر بڑے تھے کہ بعض کمروں سے دوسرے کمروں میں اکیلے جانے سے ڈر لگتا تھا۔ ہر کمرے میں دیواروں پر ہلکے سبز رنگ کا روغن بڑی مہارت سے کیا گیا تھا۔ ہال کمرہ جسے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اس میں ایک بیضوی شکل کی میز کے گرد دس بارہ کرسیاں لگی تھیں کوٹھی کا حصہ چار پانچ فٹ اونچے چبوترے پر تعمیر کیا گیا تھا جس کی وسیع چھت کے لیے یہ مشہور تھا کہ یہاں سانپ رہتے ہیں لہذا کوئی نہ جاتا تھا۔ کمروں سے ملحقہ ایک بہت لمبا برآمدہ تھا۔ یہاں سے چار پانچ سیڑھیاں اتر کر کوٹھی کے دالان میں آ جاتے تھے۔ دائیں طرف کی دیوار کا دروازہ باہر کھلتا تھا جس کے پاس ہینڈ پمپ لگا تھا اس کے قریب ہی امرود کا درخت تھا جسے سب سفری کہتے تھے۔ اس میں سفید اور سرخ دونوں رنگ کے بہت لذیذ اور میٹھے امروڈ کثرت سے آتے تھے۔ سامنے کی طرف ایک کوٹھڑی تھی جہاں ان گنت ہر عمر کی مرغیاں رہتی تھیں۔ ایک کونے میں کوئلہ کا ڈھیر تھا جو ضرورت کے وقت کام آتا تھا۔ برابر میں لمبا چوڑا باورچی خانہ تھا جہاں کم و بیش چار پانچ قسم کے کھانے پکتے تھے۔ اس سے ذرا فاصلے پر ایک بہت لمبا بیت الخلاء تھا جس میں افراد کی تعداد سے دوگنے قدمچے تھے ہر فرد کا قدمچہ الگ الگ تھا جس کے غلط استعمال پر باز پرس ہوتی۔ واسطی صاحب کی پسندیدہ ڈش ایک ڈیڑھ کلو کی مرغی یا مرغا تھا۔ گرم گرم پھلکوں کے ساتھ اس کا مزہ دوبالا ہو جاتا تھا۔ 
بازار کی خرید و فروخت اور اوپر کے کام کاج کے لیے دو بڑے وفادار ملازم تھے جن میں سے ایک کو ملا جی اور دوسرے کو اللہ دیا پکارتے تھے۔ یہ ملازم جب واسطی صاحب سے تنخواہ مانگتے تو وہ کہتے جلدی کیا ہے۔ جو چیز ضرورت ہے وہ بتا دے۔ غرض ان کی ہر ضرورت پوری ہوتی تھی اور وہ دونوں گھر کے افراد میں شامل کئے جاتے تھے۔ وہ یہاں بہت خوش تھے کیونکہ ہر طرح کا آرام میسر تھا۔ یہاں بھینس کا خالص دودھ پیالوں میں ملتا تھا۔ جن کے کناروں پر مختلف رنگ کی دھاریاں تھیں۔ دالان کے ایک کمرے میں بھینس بھی پل رہی تھی مگر اس کا دروازہ کوٹھی سے باہر کھلتا تھا۔ اور اس کی دیکھ بھال کے لیے بھی ایک نوکر رکھ لیا گیا تھا۔ 
واسطی صاحب کثرتی جسم کے مالک تھے۔کلف لگا ہوا سفید کرتا۔ چوڑی دار پاجامہ ، پاؤں میں سیاہ گابی اور سرپر کالی ٹوپی ( جو جناح کیپ سے قدرے مختلف تھی) پہن کر کوٹھی سے باہر نکلتے تو ہر شخص کی نگاہ ان کی طرف اٹھ جاتی ۔ میری والدہ کے ہاتھ میں بلا کا ذائقہ تھا کڑھی اور چنے کی دال کریلے، اس قدر لذیذ پکاتی تھیں کہ سب کوٹھی والوں کی فرمائش ہوتی چنانچہ اکثر یہ ڈش بنا کر میں اور میری والدہ کوٹھی پر آنے جانے لگے۔ ہمارے اور واسطی طاحب کے خاندان کے تعلقات استوار ہوتے گئے۔ 
محلہ کسرول۔ 
اس محلے میں میرے خالو (سید عتیق حسین واسطی ) ریلوے گارڈ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ واسطی صاحب علی گڑھ کے گریجویٹ تھے۔ سفید لمبی داڑھی ، ان کی لچسم شیم شخصیت میں شان دار اضافہ کئے ہوئے تھی۔ ان کی بیگم کو سب اولاد یں \"باجی\" کہتی تھیں لہذا مں بھی انہیں باجی کہنے لگا۔ وہ ہماری بہت خاطر تواضع کرتی تھیں۔ واسطی صاحب کی سب سے بڑی اولاد سید محمد علی اور ان سے چھوٹے صاحبزادے سید علی سعید واسطی تھے۔ میرے ان کے درمیان چھ سات ماہ کا فرق تھا۔ ان سے چھوٹے بھائی سید کبیر واسطی (مسلم لیگ ہم خیال گروپ) کے حوالے سے مشہور ہو گئے۔ سید عتیق حسین واسطی دراصل سید ظفر حسین واسطی کے حقیقی بھائی تھے جو بار ایٹ لا تھے۔ اس محلے سے ذرا آگے چوڑی سڑک ایک گھر میں سڑک کے رخ پر بہت بڑا گھڑیال آویزاں تھا جس میں محلے کے اکثر لوگ آتے جاتے وقت دیکھتے تھے ۔ اس گھڑیال کو لوئے کی گرل سے محفوظ کر دیا گیا تھا تاکہ چوری سے بچا رہے۔ 
میرٹھ کی سیر۔
والد کاروبار کی غرض سے اکثر دہلی، دارجلنگ، شملہ اور نینی تال عمارتی لکڑی خریدنے کی غرض سے جاتے رہتے تھے۔ چنانچہ ہم دونوں مان بیٹے کو سیر سپاٹے کا موقع مل جاتا۔ اس بہانے سے عزیزوں سے بھی ملاقات ہوجاتی۔ میرے پھپھا مختار صاحب اس شہر کے کوتوال تھے۔ اس عہد ے کی وجہ سے انہیں ایک کشادہ کوٹھی ملی تھی مگر یہ چاروں طرف سے نچلے درجے کے ہندوں سے گھری ہوئی تھی۔ کوتوال صاحب بڑی نہس مکھ اور شاندار شخصیت کے مالک تھے عمر 60سال سے کم تھی۔ بیگم کا انتقال ہو چکا تھا۔ اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ بس ایک وفادار ملازم دین ممحد ان کا سب کام کر دیتا تھا جسے وہ اکثر پیار سے دینو کہہ کر بلاتے تھے۔ جب ہم دونوں ان کی کوٹھی میں داخل ہوئے تو صحن میں حقہ رکھا تھا جس کے نزدیک دو چار مونڈھے اور ا یک میز تھی ۔ کوتوال صاحب خود امرود کے درختوں پر پانی چھڑک رہے تھے کیونکہ کئی دن سے بارش نہ ہوئی تھی اور درخت گرد و غبار سے اٹ گئے تھے۔ جیسے ہی ان کی نظر ہم پرپڑی انہوں نے بے ساختہ کہا آؤ جمیلہ آؤ۔ یہ تمہارا بیٹا ہے۔ تعارف کے بعد ہم مونڈھوں پر بیٹھ گئے۔ کوتوال صاحب حقہ کے کش لینے لگے۔ اور ادھر ادھر کی باتیں میری والدہ سے کرنے لگے۔ کوٹھی کا گیٹ تھوڑا سا کھلا تھا چنانچہ اس میں سے ایک مرغی داخل ہوئی اور صحن میں ادھر ادھر چکر لگانے لگی۔ ایک جوان عاق مزاج مرغ اس کا پیچھا کر رہا تھا کوتوال صاحب نے للچائی ہوئی نظروں سے دونوں کو دیکھا اس دوران میری والدہ باتھ روم میں چلی گئیں۔ کوتوال صاحب بڑی پھرتی سے گیٹ کے پاس پہنچے تو مرغی بھاگ کر باہر نکل گئی مگر مرغا نکلنے سے پہلے کوتوال صاحب نے گیٹ بند کر دیا۔ جب انہوں نے اس کا تعاقب کیا تو قریبی جھاڑیوں میں پھنس کر رہ گیا۔ مرغا بہت تڑپا ، چیخا چلایا بھی مگر کوتوال صاحب مونڈھے کے نیچے ڈال کر خود اس پر بیٹھ کر آواز لگائی دینو ارے دینو ذرا تیز والی چھری لانا میں جمیلہ کے بیٹے کو امرود کاٹ کر کھلاؤں گا۔ ملازم چھری دے کر چلا گیا تو انہوں نے مجھ سے کہا تم صحن کا چکر لگاکر دیکھو کون سے درخت کے امرود پسند ہیں۔ جو ہی میں ذرا آگے گیاانہوں نے پھری سے مرغ نکال کر چھری پھیر دی۔ اسے مونڈھے کے نیچے ڈالا اور خود اس پر اطمینان سے بیٹھ کر تازہ اخبار پڑھنے لگے۔ اتنے میں گیٹ پر شور ہوا تو کوتوال صاحب نے دینو کو زور سے آواز دے کر پلیٹ اور کالی مرچ نمک منگوایا اور کہا ذرا گیٹ پر دیکھو کیسا شور ہے ۔ ملازم نے بتایا کچھ ہندو اندر آنا چاہتے ہیں کوتوال صاحب نے لاپرواہی سے کہا انہیں اندر بلا لاؤ۔ سب نے سہمے انداز سے کہا راج کمار کا مرغا یہاں آیا ہے۔ انہوں نے اخبار سے نظر ہٹا ئے بغیر کہا بھائی کوٹھی حاضر ہے تلاش کر لو۔ 

حضرت سلیمان علیہ السلام


حضرت سلیمان علیہ السلام 
داؤد علیہ السلام کے بیٹوں میں سے ان کے اصل جانشین سلیمان علیہ السلام ہوئے جن کی ذات میں اللہ تعالی نے نبوت اور بادشاہت دونوں جمع کر دیں اور وہ ملک عطا فرمایا جو ان سے قبل یا بعد کسی کو نہ ملا۔ سلیمان علیہ السلام کے لیے اللہ تعالی نے پرندوں کے لشکر بھی جمع کیئے اور ان کی جماعتوں میں خاص نظم قائم رکھا جاتا۔ ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام کا اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ایسے میدان کی طرف گزر ہوا جہاں چیونٹیوں کی بڑی بستی تھی۔ چیونیٹیوں کی ملکہ نے چیونٹیوں سے کہا کہ اپنے گھروں میں گھس جاؤ کہیں سلیمان علیہ السلام اور اس کے لشکر تمہیں پیروں تلے روند نہ ڈالیں جبکہ ان کو روندنے کی خبر بھی نہ ہو۔ اس بات کو سن کر سلیمان علیہ السلام مسکرا کر ہنس پڑے اور اللہ کا شکر بجا لائے جو اللہ نے ان کو چیونٹیوں کی بولی سکھائی اور ا ن پر اور ان کے ماں باپ پر جوبے حد انعام کر کے احسان فرمایاتھا اس پر شکر ادا کرنے کی توفیق مانگی۔ اور یہ بھی دعا کی کہ مجھے نیک عمل کرنے کی بھی توفیق دے اور اپنے نیک بندوں کے ساتھ اپنی رحمت یعنی جنت میں داخل فرما۔ اگر چہ ان کی شان والا بادشاہ نہ کبھی ہوا نہ ہو گا پھر بھی پیغمبر تھے اس قدر عاجزی سے اللہ کے احسانوں کا شکر بھی ادا کیا اور جنّت میں داخلے کے لیے بھی عاجزی سے دعا مانگی۔ 
پھر سلیمان علیہ السلام نے جو لشکروں کا معائنہ کیا تو پرندوں کی رجمنٹ میں سے ھد ھد کو غیر حاضر پایا اور کہا اگر وہ کوئی صریح وجہ غیرحاضری کی پیش نہ کر سکا تو یا تو میں اسے کوئی سخت سزا دو ں گا یا ذبح کرڈالوں گا۔ ابھی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ ھد ھد پیش ہو گیا۔ اور اس نے یہ بیان دیا کہ میں سبا کے ملک سے آپ کے لیے ایک پکی خبر لایا ہوں۔ وہاں ایک عورت بادشاہت کرتی ہے جس کو ہر چیز ملی ہوئی ہے، از قسم مال و اسباب ، فوج، اسلحہ اور حسن و جمال سب کچھ ، اور اس کا ایک عظیم تخت ہے (یعنی نہایت قیمتی مکلف و مرصع کہ اس جیسا کسی اور بادشاہ کے پاس نہ تھا۔) اور یہ بھی بتایا کہ وہ خود اور اس کی رعایا اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ سلیمان علیہ السلام نے کہا ہم دیکھتے ہیں تو نے سچ کہاہے کہ جھوٹ ۔ پھر اسے ا پنا ایک خط دیا کہ اس کو ملکہ کے سامنے جا کر ڈالے اور ا یک طرف ہو کر دیکھے کہ وہ کیا جواب دیتی ہیں۔ ملکہ نے خط دیکھا تو اپنے دربار والوں کو بتایا کہ یہ ایک عزت والا خط سلیمان علیہ السلام بادشاہ کی طرف سے آیا ہے ۔ انہوں نے اللہ رحمن رحیم کے نام سے شروع کر کے یہ لکھا ہے کہ میرے مقابلے میں زور نہ دکھاؤ اورفرمانبردار ہو کر میرے سامنے چلے آؤ۔ آپ لوگوں کا کیا مشورہ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم زور آور بھی ہیں اور سخت لڑائی والے بھی مگر حکم تو آپ کا ہے کیونکہ آپ اختیار والی ہیں۔ ملکہ بلقیس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اس کو خراب کردیتے ہیں اور وہاں کے سرداروں کو بے عزت کر دیتے ہیں اور یہ ایسا ہی کریں گے۔ مگر میں سلیمان علیہ السلام بادشاہ کی طرف کچھ تحائف بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ میرے قاصد کیا جواب لے کر آتے ہیں۔ سلیمان علیہ السلام نے قاصدوں کو فرمایا کہ تم میری مال سے مدد کرتے ہو۔ مجھے اللہ نے تمہاری نسبت زیادہ بہترمال دیا ہے تم کو تمہارے یہ تحائف مبارک ہوں۔کیا تم نے ہمیں محض ایک دینوی بادشاہ سمجھا ہے اورہمیں مال متاع کا لالچ دیتے ہو۔ واپس چلے جاؤ، ہم تو ایسے لشکر لے کر چڑھائی کریں گے جن کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے گا اور ہم سب کو ان کے ملک سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔ اوروہ خوار ہوں گے۔ یعنی یا تووہ جلاوطن ہوں گے۔ یا قیدی بنیں گے، اور ذلّت کے ساتھ ان کو دولت و سلطنت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ یہ اللہ تعالی کا بخشا ہوازور تھا جو سلیمان علیہ السلام نے اس طرح کی بات کی ورنہ پیغمبروں میں سے کسی نے اس طرح کی اونچی بات نہیں کی۔ 
پھر سلیمان علیہ السلام نے دربا والوں کو حکم دے کر ملکہ بلقیس کا تخت اٹھوا کر اپنے ہاں منگوایا جو آپ کے ایک صحابی نے چشم زدن میں کرامت کے طور پر لا حاضر کیا۔ اسے دیکھ کر سلیمان علیہ السلام نے فورا اقرار کیا کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور وہ آزماتا ہے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔ اور جو شکر کرتا ہے وہ ا پنے لیے ہی کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو اللہ بے پروا ہے ،کرم والا ہے۔ یعنی ناشکروں کو فوراََسزا نہیں دیتا ۔ایسے کریم کی ناشکری کرنے والا خود بے حیا ہے، احمق ہے۔ پھر سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ ملکہ کے تخت کا روپ بدل دو، ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ سمجھ پاتی ہے کہ نہیں۔ جب وہ ملکہ آئی تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی ایسا ہی ہے۔ اس نے کہا کہ یہ تو گویا وہی ہے اور ہم کو تو پہلے سے معلوم ہو چکا تھا ،سو ہم تو حکم بردار ہو چکے ہیں۔ پہلے اس کوایمان لانے سے ان چیزوں نے روک رکھا تھا جو اللہ کے سوا تھیں اور وہ پہلے منکر قوم کی فرد تھی۔ پھر اس سے کہا گیا کہ محل کے اندر چلیں ۔ اس نے جو راستہ دیکھا تو خیال کیا پانی ہے گہرا، سو اس نے اپنی پوشاک سمیٹ کراوپر کر لی۔ سلیمان علیہ السلام نے کہا یہ تو محل کا راستہ ہے جس میں شیشے جڑے ہوئے ہیں۔ اس نے کہا میں نے اپنی جان کا اب تک برا ہی کیاہے، پس اب میں سلیمان علیہ السلام کے ساتھ اس اللہ کے آگے حکم بردار ہوتی ہوں جو سارے جہاں کا رب ہے پالنے والا کارساز۔
سلیمان علیہ السلام کو جہاد کے لیے نہایت تیز و سبک رفتا ر گھوڑے پالنے کا شوق تھا اور ایک دفعہ ان گھوڑوں کا معائنہ کر تے ہوئے دیر ہو گئی حتیٰ کہ آفتاب غروب ہو گیا۔ اس شغل میں عصر کے وقت کا وظیفہ بھی نہ پڑھ سکے۔ اس پر کہنے لگے کہ کچھ مضائقہ نہیں اگر ایک طرف ذکر اللہ سے غفلت ہوئی ہے تو دوسری طرف جہاد کے گھوڑوں کی محبت اور دیکھ بھال بھی اللہ کی یاد سے وابستہ ہے کیونکہ جہاد کا مقصد بھی اللہ کا کلمہ بلند کرنا ہے۔ اس لیے حکم دیا کہ گھوڑوں کو پھر واپس لاؤ اور جب وہ واپس آئے تو غایت محبت اور اکرام سے ان کی گردنیں اور پنڈلیاں پونچھنے لگے۔ تاہم ذکر قضا ہونے کی خطا اپنی جگہ پر خلش پیدا کرتی رہی ، سو سلیمان علیہ السلام نے دعا مانگی کہ اے میرے رب! میری خطاء بخش دے اور مجھے ایسی عظیم الشان بادشاہی نصیب فرما کہ میرے بعد کسی اور کو نہ ملے۔ بے شک آپ سب کچھ بخشنے والے ہیں۔ پھر اللہ نے ہوا بھی ان کے تابع کر دی۔ جو اللہ کے حکم سے نرم نرم چل کر جہاں وہ چاہتے وہاں پہنچا دیتی اور ایسی سست بھی نہ ہوتی ، اس کی صبح کی منزل مہینے کی مسافت کے برابر ہوتی اور شام کی بھی ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہوتی۔ اور جن بھی ان کے تابع کردیئے جو عمارتیں بنانے والے تھے اور سمندر میں غوطے لگا کر موتی نکالنے والے تھے۔ اور کچھ اور تھے سرکش قسم کے، جن کو سلیمان علیہ السلام بیڑیوں میں باہم جکڑ کر قید کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔ اتنے وسیع اختیارات دینے کے ساتھ ساتھ اللہ نے ان کو یہ بھی اختیار دیا کہ تم جس کو چاہو بخش دو یا نہ بخشو، جس کو چاہو کچھ دو یا نہ دو۔ تم پر کوئی حساب نہیں ہو گا۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان تھا۔ اور با دشاہت کے باوجود جو روحانی تقرب اور مرتبہ اللہ کے ہاں ان کا ہو گا،جو اعلی ٹھکانہ ان کا جنت الفردوس میں ہو گا وہ بجائے خود رہا ۔
اللہ پاک نے سلیمان علیہ السلام کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بھی بہا دیا۔جو یمن کی طرف تھا۔ اس کو سانچوں میں ڈال کر جناّت بڑے بڑے برتن دیگیں وغیرہ تیار کرتے۔ بعض اتنے بڑے لگن بناتے جیسے حوض یا تالاب ہوں۔ اور بڑی بڑی ایسی دیگیں تیار کرتے جو ا یک ہی جگہ رکھی رہتیں جن کے نیچے گڑھے کھود کر کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی جاتی ۔یہ سارے کام جنوں سے لیے جاتے ۔ اللہ کا حکم تھا کہ سلیمان علیہ السلام کی سب اطاعت کریں۔ ان میں سے کسی نے ذرا سرکشی کی تو اس کو آگ میں پھونک دیاجا ئے گا۔ ایسے بھاری انعامات کے بعد ا للہ نے آل داؤد کواحسان مان کر اچھے کام کرنے کا حکم دیا اگر چہ اللہ کے بندوں میں سے احسان ماننے والے کم ہی ہوتے ہیں مگر اللہ نے آل داؤد یعنی سلیمان علیہ السلام اور ان کی اولاد سے جن پر بے انتہا انعام ہوئے تھے، شکر گزاری کی خاص امید رکھی۔ اور بیشک سلیمان علیہ السلام نے شکر گزاری کا حق اد ا کر دیا اور اللہ پاک نے ان کو نعم العبد یعنی ’’بہت خوب بندہ ‘‘کا خطاب دیا۔ 
سلیمان علیہ السلام کی زندگی کی کہانی کا آخری واقعہ یوں ہے کہ آپ مسجد بیت المقدس کی تجدید کرا رہے تھے ۔جب آپ کو موت قریب معلوم ہوئی تو آپ نے شیشے کا ایک حجرہ بنوایا اور اس میں عبادت الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ یہ حجرہ زیر تعمیر مسجد کے بالکل سامنے تھا اور جن جو تعمیر کررہے تھے وہ یہی سمجھتے رہے کہ سلیمان علیہ السلام سر پر کھڑے نگرانی کر رہے ہیں۔ پھر سلیمان علیہ السلام اسی حالت میں فوت ہو گئے مگر ان کی نعش لکڑی کے عصا کے سہارے کھڑی رہی ۔ کسی کو آپ کی وفات کا احساس نہ ہو سکا۔ چنانچہ وفات کے بعد بھی جن مدت تک بدستور تعمیر کرتے رہے۔جب تعمیر پوری ہو گئی اور وہ عصا جس پر سلیمان علیہ السلام ٹیک لگائے کھڑے تھے دیمک کے کھانے سے گرا تب سب کو وفات کا حال معلوم ہوا۔ اس سے جنوں پر خود اپنی غیب دانی کی حقیقت کھل گئی اور انہوں نے نہایت افسوس سے کہا اے کاش ان کو غیب کا علم ہوتا تو وہ ذلّت آمیز تعمیر کی مشقت میں نہ بندھے رہتے۔ آخر میں یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ قصہ محض قصہ نہیں بلکہ اس میں کچھ نصیحت آموز سبق ہیں۔ اول یہ کہ اللہ جس کو چاہیے نہایت پست مقام سے اٹھا کر بادشاہت عطا کر نے کی قدرت رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ جنوں کی طاقتور مخفی مخلوق کو کسی آدم زاد کی حکمرانی کے تحت باندھ دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ اور سلیمان علیہ ا لسلام کو جو بادشاہت کا اختیار ملا تھا وہ بھی اللہ کی مہربانی سے تھا اور وہ اس کی قدرت کا بھی مظہر تھا۔ تیسرے یہ کہ ا للہ کے علاوہ کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا۔ یہ حقیقت جنوں پر بھی کھل گئی ور جو انسان جنوں کے علم غیب جاننے کا عقیدہ رکھتے تھے ان پر بھی عیاں ہو گئی۔ نیز اللہ نے بیت المقدّس کی تعمیر جنّوں سے سلیمان علیہ السلام کی موت کے بعد بھی محض لکڑی کے عصا پر آپ کے مردہ جسم کو سہارا دے کر مکمل کرا دی۔

Friday, 7 February 2014

حضرت داؤد علیہ السلام کی دیگر خصوصیات


حضرت داؤد علیہ السلام کی دیگر خصوصیات
آپ پر آسمانی کتاب زبو ر اتری جس میں زیادہ تر حمدیہ کلام تھا ۔آپ وجد میں آ کر اپنی سریلی آواز مین کلام پڑھتے ،اللہ کی حمد بیان کرتے پرندے ، درخت اور پہاڑ بھی وجد میں آ کر آپ کی آواز کے ساتھ آواز ملا کر اللہ کی حمد بیان کرتے۔ ۲۔آپ پر نازل ہوئی کتاب زبور میں اللہ نے اپنی سنت بیان فرمائی کہ ہم زمین کا وارث صالح بندوں کو بناتے ہیں۔۳۔ اللہ پاک نے داؤد علیہ السلام کے ہاتھ پر لوہے کو اس حد تک نرم کر دیا کہ آگ اور صنعتی اوزار کے بغیر جس طرح چاہتے ہاتھ سے لوہے کو توڑ مروڑ لیتے تھے اور اس کی زر ہیں تیار کر کے فروخت کرتے اور یوں ہاتھ سے حلال روزی کما کر کھاتے ۔ بہت بڑی سلطنت کے بادشاہ تھے مگر بیت المال سے کچھ نہ لیتے تھے۔ (ہماری اس امت میں بھی کئی ایسے بادشاہ گزرے ہیں جو ہاتھ کی کمائی سے حلال کی روزی کھاتے تھے ۔ عمر بن عبدالعزیز ناصر الدین بلبن ، اور نگ زیب عالمگیر اور ہمارے قائداعظم محمد علی جناح مرحوم جو پاکستان کے پہلے گورنر جنرل تھے ۔رَحِمَھُمُ اللّٰہ، ۴۔ اللہ تعالی نے داؤ د علیہ السلام اور ان کے بیٹے سلیمان علیہ السلام کو ان کی شان کے لائق علم کا خاص حصہ عطا فرمایا۔ علم سے مراد شریعت کے احکام اور سیاست اور حکمرانی کے اصول وغیرہ ہیں۔ نیز داؤد علیہ السلام کے بارے میں خاص طور پر بتایا کہ وہ اللہ کی طرف ہر دم رجوع کرنے والے تھے۔ اللہ نے ان کی سلطنت کوقوت دی تھی۔ ان کی سلطنت کی اپنی نصرت سے دھاک بٹھائی ہوئی تھی۔ وہ بڑے مدّبر اور دانا تھے اور فیصلہ بڑی خوبی سے کرتے تھے۔ اور تقریر بھی ان کی نہایت عمدہ اور فیصلہ کن ہوتی تھی۔ باوجود طرح طرح کے علمی کمالات کے جو ان کو اللہ کی طرف سے عطا ء ہوئے تھے امتحان ان کا بھی اللہ نے لیا۔ انہوں نے مختلف فرائض کے لیے تین دن مقرر کیئے ہوئے تھے ۔ ایک دن درباری معاملات کے لیے ، ایک دن اپنے اہل و عیال کے پاس رہنے کے لیے اور ایک دن خالص اللہ کی عبادت کے لیے اور اس روز وہ خلوت میں رہتے تھے اور کسی کو دربان ان کے پاس جانے نہیں دیتے تھے۔ مگر ایک دن جب وہ عبادت میں مشغول تھے کہ اچانک چند اشخاص دیوار پھاند کر ان کے پاس آ کھڑے ہوئے ۔ان کی توجہ ہٹ گئی اور ہ گھبرا گئے کہ محکم انتظام کے باوجود یہ کون لوگ ہیں اور کیسے میرے سامنے آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا گھبرائیں مت ہم ایک فیصلہ کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ آپ انصاف سے فیصلہ فرما دیں۔ ایک نے بیان کیا کہ یہ میرا بھائی ہے اور اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میر ے پاس ایک دنبی ہے یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک بھی کسی طرح مجھ سے چھین کر اپنی سو پوری کرے۔ وہ مال میں جیسے مجھ سے بڑھا ہوا ہے ،بات کرنے میں بھی مجھ سے تیز ہے یعنی مجھے بول کر بھی دبا لیتا ہے۔ داؤد علیہ السلام نے کہا وہ بے انصافی کر رہا ہے اور شریک تو اکثر زیادتی کرتے ہیں ایک دوسرے پر، مگر ایمان اور عمل صالح والے نیک لوگ نہیں کرتے پروہ ہوتے بہت تھوڑے ہیں۔ اس قصہ کے بعد داؤد علیہ السلام کو آگاہی ہوئی اور انہوں نے اپنی خطا معاف کرانے کے لیے نہایت عاجزی سے معافی مانگی ،سجدہ کیا اور اللہ نے ان کی خطا معاف فرما دی۔ وہ خطا کیا تھی اس کے متعلق روایت ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اپنی طرف سے عبادت کا جو وقت مقرر کر رکھا تھا اس پر ان کو اطمینان تھا کہ اس میں خلل پیدا نہیں ہو گا۔ مگر ا للہ نے ان پر ظاہر کیا کہ میری توفیق کے بغیر کوئی تدبیر تمہاری شکست سے محفوظ نہیں۔ اس پر ان کو جب تنبہ ہوا تو انہوں نے اپنی خطاء کی معافی چاہی اور اللہ نے معاف فرما دیا۔ 
پھر اللہ پاک نے ان کو ملک میں خلیفہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ لوگوں میں انصاف سے حکومت کرنا اور اپنی خواہش پر نہ چلنا ۔ چنانچہ وہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں نہایت عدل کے ساتھ حکومت کرتے رہے اور ملک میں ان کے زمانے میں امن و امان کا دور دورہ تھا جس کی تاریخ گواہ ہے۔

Monday, 3 February 2014

Back Pain Reason and Caution


کمر درد ایک عام مرض 
کمرد درد کا عارضہ آج کل عام ہے۔ ہر 10میں سے 8افراد بلا امتیاز عمر و پیشہ زندگی میں کبھی نہ کبھی اس درد کا شکار ہوتے ہیں۔ کمر کے درد کے شکار ہی اس تکلیف کا صحیح اندازہ کر سکتے ہیں کیونکہ بعض لوگوں میں یہ درد اس قدر شدید ہوتا ہے کہ روزمرہ کے معمولات مثلاً اٹھنا بیٹھا، لباس بدلنا، ڈرائیونگ، چلنا پھرنا اور ازدواجی تعلق ایک بہت مشکل کام بن جاتا ہے اصل میں اس طرح جھکنے یا دھچکا لگنے سے اور کمر مڑنے سے ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ پڑتا ہے اور شدید درد شروع ہو جاتا ہے مریض کئی کئی گھنٹے اس حالت میں گزار دیتا ہے اور ہلنا جلنا تک مشکل ہو جاتا ہے۔ 
کمر کا درد کیوں ہوتا ہے؟
ماہرین صحت کے مطابق طرز حیات یعنی لائف سٹائل ہے لوگ جس طرح اپنے وزن کو بڑھا رہے ہیں اس سے کمر درد کا مسئلہ شدید ہوتا جا رہا ہے کمر قدرت کی حیاتیاتی انجنئیرنگ کا شاہکار ہے اس ڈھانچے میں کھوپڑی ، پسلیاں، پیڑو اور کندھے استوار ہوتے ہیں۔ یہ ان اعصابی پٹھوں کے لیے راستوں کا کام دیتی ہے۔ جو دماغ کو جسم کے باقی حصوں سے جوڑتے ہیں ۔ کمر لچکدار ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ رقاص اپنے فن کے مظاہرے کے دوران اپنی کمر کو دائرے کے دو تہائی حصے تک جھکا لیتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے خرابی ہو جائے تو پوری کمر متاثر ہوتی ہے۔ کبھی اس بیماری کا آغاز پیدائش سے بھی شروع ہو جاتا ہے مثلاً ایک ٹانگ دوسری سے بڑی یا چھوٹی رہ جاتی ہے جس سے ریڑھ کے عضلات غیر متوازن ہو جاتے ہین۔ بعض لوگوں کے مہروں کے درمیان گریاں Discsانحطاط پذیر ہو جاتی ہیں۔ 
غیر متواز جسمانی انداز کے علاوہ درد کمرکے کئی اسباب ہوتے ہیں۔ یعنی ریڑھ کی ہدی کا زیرین حصہ اس کا مرکز بنتا ہے اور وہ لوگ اس کا شکار زیادہ ہوتے ہیں جو بے حرکتی کا شکار رہتے ہیں اور اس طرح اپنا وزن بڑھا لیتے ہیں یا پھر کام کی زیادتی کا شکار افران اس کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چپٹی ہڈی جو مہروں کے اوپر واقع ہوتی ہے اپنی جگہ چھوڑ دیتی ہے اس طرح ریڑھ کے عضلات دب کر متورم ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگوں میں نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے بھی درد کمر ہوتا ہے۔ 
علاج
درد کمر کے جس طرح مختلف اسباب ہو سکتے ہیں اسی طرح اس کے علاج بھی اسباب کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔درد کی وجوہات کے بعد ہی علاج کا راسہ اختیا ر کرنا چاہیے۔ اگر گریوں میں شکستگی ہو تو عمل جراحی سے ان کو نکال دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ طریقہ آخری تدبیر کے طورپر اختیار کیا جاتا ہے۔ 
احتیاطیں
سیدھی کرسی پر جس کی پشت سخت اور سیدھی ہو بیٹھا کریں۔ اس طرح بیٹھیں کہ آپ کے گھٹنے آپ کے کولہوں سے کچھ اوپر ہوں۔ اس کے لیے آپ کو چھوٹے پائیدان کی ضرورت ہو گی۔ گھومنے والی کرسی کے استعمال سے بچیں اور موٹے گدے والی کرسی یا صوفہ پر نہ بیٹھیں بلکہ کچھ وقت کے لیے چل پھر لیا کریں۔ ویادہ وقت ایک ہی انداز میں کھڑے نہ ہوں کبھی ایک پاؤں پر اور کبھی دوسرے پاؤں پر وزن منتقل کریں۔ کھڑے ہوتے وقت جھک کر کمر کی طرف کبھی اپنی ہاتھوں سے سہارا نہ لیں بلکہ ہاتھ آگے کی جانب رکھ کر تھوڑا آگے کی طرف جھکیں۔ فٹ پاتھ پر قدم رکھنے سے پہلے اس کی اونچی کا اندازہ کر لیں اس طرح دروازہ پوری طرح کھلا ہو تاکہ آپ آسانی سے گزر سکیں۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہمیشہ اپنی سیٹ آگے کی طرف کھسائیں تاکہ گھٹنے کولہوں سے اوپر ہو جائیں۔ یوں کمر اور کندھوں کے پٹھوں پر دباؤ کم ہو جائے گا۔ ڈرائیونگ کے دوران ہمیشہ حفاظتی بیلٹ باندھیں۔ بستر پر آرام کریں ، جس کو اوپر اٹھانے یا موڑنے سے احتیاط کریں اس طرح کمر پر دباؤ سے درد بڑھ سکتا ہے۔ کروٹ کے بل سوئیں اور دونوں گھٹنے ٹھوڑی کی جانب کھسکا لیں ۔ بستر پر لیٹتے ہوئے بازو سر سے اوپر نہ لے جائیں بلکہ جسم کے برابر رکھ کر آرام دیں۔ پیٹ کے بٹ سونے سے احتیاط کریں اور ہمیشہ سخت گدے ورنہ بہتر ہے کہ فرش پر سوئیں۔ کوئی چیز اٹھاتے ہوئے کمر کی بجائے ٹانگوں سے کام لیں اگر کوئی ہلکی شے بھی اٹھا نا ہو تو یہی طریقہ اختیار کریں۔ ٹانگیں سیدھی رکھ کر کبھی کوئی شے نہ اٹھائیں کار کی ڈگی سے بھاری اشیاء نہ اٹھائین۔ درد کی صورت میں بستر نہ بچھائیں اور جھکنے والا کوئی کام جس سے کمر پر بوجھ پڑے نہ کریں۔ اپنا وزن معیار ی وزن سے نہ بڑھنے دیں۔ غذا میں گوشت ، مچھلی ، مرغی اور سبزیاں جو زمین سے اوپر اگتی ہیں ، پھلوں میں آلوچہ، خوبانی ، امرود، سیب درد کمر میں مفید ہیں۔ جبکہ گھی، تیل، مکھن ، مٹھائی، ڈبل روٹی، اور آم ، کیلا اور وہ تمام سبزیاں جو زمین کے اندر اگتی ہیں مثلا چقند، گاجر، شلجم وغیرہ کا استعمال نہ کریں۔